24 ستمبر 2010 - 20:30

آج پوری دنیا میں وہابیت سنجیدگی کے ساتھ اہل تشیع کے خلاف کام کررہی ہے اور اہل بیت (ع) کو معاشروں کے دل و دماغ سے ہٹانا اس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے  مطابق حجت الاسلام والمسلمین شیخ نجم الدین طبسی، نے قم المقدسہ کے مدرسہ آیت اللہ العظمی گلپائگانی (رح) میں وہابیت کے شبہات کا جواب کے عنوان سے منعقدہ درسی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وہابیوں کی مشہور روایات کی طرف اشارہ کیا اور "عشرہ مبشرہ" کے عنوان سے منقولہ روایت کا علمی تجزیہ کرتے ہوئے کہا: وہابی اپنی پوری طاقت کے ساتھ تمام دستیاب اوزاروں اور وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اہل بیت (ع) کے لئے متبادل متعارف کرانے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسروں کو اہل بیت (ع) کے اوصاف سے متصف کرکے پیش کررہے ہیں۔ وہابیت کی بڑی سازش؛ اہل بیت (ع) کا نام و نشان مٹاناانھوں نے کہا: وہابیوں کی اکثر کتابوں میں بعض صحابیوں کو اہل بیت (ع) کے نعم البدل کے طور متعارف کرانے کی کوشش قابل مشاہدہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے فضائل پر مبنی روایات کی مشابہ روایات ان کتابوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں اور انھوں نے حقیقی احادیث کو سند و دلیل کے حوالے سے مسترد کرنے کی کوشش کی ہے اور میرے خیال میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی فضیلت سے متعلق کوئی بھی روایت ان کی دستبرد سے محفوظ نہیں رہ سکی ہے۔ حوزہ علمیہ کے اس نامور استاد نے کہا: وہابیت کی کوشش ہے کہ اہل بیت (ع) کے کردار کو کمزور کرکے پیش کیا جائے اور اہل بیت (ع) کو لوگوں کے دل و دماغ سے مٹا دیں اور بعض صحابہ کو اہل بیت (ع) کے اوصاف سے متصف کرکے نعم البدل کے طور پر متعارف کرادیں۔حجت‌الاسلام والمسلمین طبسی نے وہابیت کی سیاہ اور شرمناک تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ابتدا ہی سے شیعیان اہل بیت (ع) کے خلاف جھوٹ اور بہتان اور اہل بیت (ع) سے جعلی روایات منسوب کرنے کا سلسلہ وہابیت کے ہاں وسیع پیمانے پر جاری رہا ہے اور وہابیوں نے جھوٹ اور بہتان کو ہی اپنے کام کی بنیاد قرار دیا ہے اور وہ کسی بھی تہمت و افتراء سے دریغ نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا: وہابیوں کی بیشرمی کی انتہا یہ ہے کہ وہ حتی امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) کو معاذاللہ تارک الصلاة کے عنوان سے متعارف کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور تشہیراتی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پوری دنیا میں جھوٹ اور افتراء کو عام کررہے ہیں۔ جامعة المصطفی العالمیة کے استاد نے مزید کہا: شیعہ پوری تاریخ میں مظلوم تھا اور مظلوم ہے کیونکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے قبل کوئی بھی حکومت شیعیان اہل بیت (ع) کی حمایت کے لئے تیار نہ تھی اور دنیا میں تشیع کے فروغ کی لئے کوئی بھی موقع فراہم نہ تھا اور وہابیت ان برسوں کے دوران مسلسل دروغ پردازی کے ذریعے شیعہ مخالف ماحول تیار کرنے میں مصروف تھی۔ شیعہ اور سنی کے درمیان جنگ کرانا؛ وہابیت کا اصلی مقصدانھوں نے حال ہی میں پاکستان کے  طالبان دہشت گرد ٹولے کے سرغنوں کی جانب سے وہابی طلباء اور علماء کی موجودگی میں اہل تشیع کے خلاف ایک اجلاس کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس اجلاس کا مطلب یہ تھا کہ وہابی طلبہ کو اہل تشیع کے خلاف زیادہ سے زیادہ بھڑکایا اور اکسایا جاسکے؛ جبکہ اہل تشیع کے خلاف ایسے اقدامات کا جواب دینے کے لئے کوئی اقدام عمل میں نہیں آتا اور یہ افسوس کا مقام ہے کیونکہ وہ تلوار سونت کر میدان میں آئے ہیں اور کفر کے خلاف اسلام کی جنگ کو اسلام کے خلاف اسلام کی جنگ میں بدلنا چاہتے ہیں اور شیعہ کو سنی کے خلاف اور سنی کو شیعہ کے خلاف نبرد آزما کرانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: بعض وہابیوں کو لاکھوں ڈالر ملتے ہیں اور وہ ٹیلی ویژن چینلز پر اہل تشیع کے اعتقادات کے خلاف شبہہ اندازی میں مصروف ہیں اور اپنے زعم میں شعیہ اعتقادات کو مشکوک بنانے کی کوشش کررہے ہیں؛ ان کا وہم ہے کہ وہ ولایت امیرالمؤمنین علیہ السلام کو متنازعہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے؛ ان کا الزام ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کا قائل ہے [جبکہ اس شبہے کا ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک سینکڑوں بار جواب دیا جاچکا ہے]۔ انھوں نے کہا: فہم اور ادراک وہابیت کے پروگرام میں شامل ہی نہیں ہے اور ان کی طرف سے شیعہ مخالف فتوے در حقیقت اسلامی امت کے درمیان تنازعات پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہیں مگر مکتب اہل بیت (ع) کی عظمت و قوت نے ان کی ان سازشوں کو ناکام کررکھا ہے۔کیا وہابیت کے ساتھ مفاہمت ہوسکتی ہے؟حجت‌الاسلام والمسلمین طبسی نے کہا: وہابی علماء حتی اہل تشیع کو سلام کرنا بھی جائز نہیں سمجھتے اور اہل تشیع کو مشرک اور بت پرست قرار دیتے ہیں تو ایسی صورت میں کیا ان کے ساتھ مفاہمت ممکن ہے؟ یا ان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنا ممکن ہے؟انھوں نے کہا: آج تمام عرب و غیر عرب حکومتوں اور مشرق سے مغرب تک کی قوتون کی حمایت وہابیت کو حاصل ہے اوران کے تمامتر مالی وسائل بھی وہابیت کی خدمت میں قرار دیئے گئے ہیں اور وہ اہل تشیع کے خلاف وسیع تشہیراتی مہم چلارہی ہے چنانچہ حوزہ علمیہ کی طلباء کو شبہات اور اعتراضات کا جواب دینے کی قوت سے لیس ہونا چاہئے تا کہ وہ مسلمانان عالم کو خواب غفلت سے بیدار کرسکیں۔............/110

پاکستان میں: دہشت گردی اور ملت جعفریہ کی مسلسل نسل کشی